پیغمبر اعظم(ص) فیسٹیول کے سربراہان اور بین الاقوامی ورکنگ کمیٹی کی باہمی میٹینگ+تصاویر

.0

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ جناب آقائے سالار نے حالیہ سالوں میں مغرب کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) اور اسلامی مقدسات کی نسبت کئے گئے توہین آمیز اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حقیقت تو یہ ہے کہ جہان اسلام نے پیغمبر (ص) کے حق میں بہت کوتاہی کی ہے اور آپ(ص) کی شخصیت کو کما حقہ دنیا میں نہیں پہچنوایا ہے۔

 پیغمبر اعظم(ص) فیسٹیول کے سربراہان کی اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کی  ورکنگ کمیٹی کے ساتھ گزشتہ روز ۲۹اکتوبر کو تہران اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے دفتر میں ایک میٹینگ منعقد ہوئی۔
اس میٹنگ میں اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد سالار اور اس شعبے کے دیگر مسئولین نیز اہلبیت(ع) ثقافتی_ فنی فیسٹیول کے عہدہ داران نے پیغمبر اعظم (ص) عظیم انعامی مقابلے کے مختلف گوشوں کے بارے میں گفتگو کی۔
میٹینگ کے آغاز میں پیغمبر اعظم (ص) فیسٹیول کے سیکریٹری حجۃ الاسلام و المسلمین حسینی عارف نے فیسٹیول کے سلسلے میں اب تک انجام پائے گئے امور کے بارے میں مختصر وضاحت بیان کی اور اس سلسلے میں شعبہ بین الاقوامی امور کے کردار کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے پیغمبر اعظم(ص) کو تمام مسلمانوں کے درمیان ایک مشترکہ باب قرار دیتے ہوئے پیغمبر اعظم(ص) فیسٹیول کی کما حقہ تشہیر نہ ہو پانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بہت سارے فنکار، مولف اور مترجم حضرات ایسے ہیں اگر اس انعامی مقابلے کی اطلاع ان تک پہنچے تو وہ ضرور اس میں حصہ لیں گے۔
بعد از آں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ جناب آقائے سالار نے اس انعامی مقابلے کی ضرورت اور اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے بیان کیا کہ اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی سے منسلک دنیا کے کونے کونے میں موجود اداروں کے ذریعے اس فیسٹیول کی تشہیر کی جا سکتی ہے اور لوگوں کو اس سلسلے میں مطلع کیا جا سکتا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین سالار نے حالیہ سالوں میں مغرب کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) اور اسلامی مقدسات کی نسبت کئے گئے توہین آمیز اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حقیقت تو یہ ہے کہ جہان اسلام نے پیغمبر (ص) کے حق میں بہت کوتاہی کی ہے اور آپ(ص) کی شخصیت کو کما حقہ دنیا میں نہیں پہچنوایا ہے۔
جناب آقائے سالار نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ پیغمبر اعظم (ص) انعامی مقابلہ یقینا اسی سال منعقد ہونا چاہیے کہا: شائد پہلے مرحلے میں اس کا اتنا استقبال نہ ہو جتنا ہم چاہتے ہیں لیکن ہمارا یہ اقدام آیندہ منعقد ہونے والے مقابلوں کے لیے ایک بہترین اور مفید اقدام ہو گا۔
انہوں نے دشمنان اسلام کی طرف سے شیعوں پر لگائی جانے والی تہمتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اس فیسٹیول کی تشہیر بین الاقوامی سیٹلائٹ چینلز اور ویب سائٹس کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں اس لیے کہ عالمی نٹ ورک پر ان تشہیرات سے چاہے کوئی فنکار اور مولف ہماری طرف مجذوب نہ بھی ہو لیکن یہ جو ہم پر تہمت لگائی جاتی ہے کہ ہم پیغمبر اکرم(ص) کو اہمیت نہیں دیتے یہ ختم ہو جائے گی۔
اس میٹینگ میں موجود اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے دیگر مسئولین نے بھی اپنے اپنے خیالات پیش کئے۔
قابل ذکر ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات اقدس کے خلاف پروپیگنڈوں اور دشمنوں کی جانب سے  فن و ثقافت کے حربوں کے استعمال کے پیش نظر، پہلے فیسٹیول میں، سرکاری اور عوامی تنظیموں کے تعاون سے شارٹ فلم اور تالیف کتب یا ترجمہ جیسے دو شعبوں میں ’’جایزہ بزرگ پیامبر اعظم (ص)‘‘ کے عنوان سے مقابلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کا موضوع، پیغمبر رحمت و انصاف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے۔ اس انعامی مقابلے میں پہلے تین درجات پانے والوں کو قیمتی جبکہ تمام شرکت کرنے والوں کو بھی نفیس انعامات سے نوازا جائے گا۔


خانه | تماس | درباره ما |